شرعی مسائل اوران کاحل (۶) - Siddiqahmad.com

شرعی مسائل اوران کاحل (۶)


 
سوال
عمرنےایک اہم کام کےپوراہونےپر۱۰ رکعت نفل نمازپڑھنےکی نذر(منت) مانی، وہ کام پوراہوگیاہے،اب سوال یہ ہےکہ منت پوری کرنےکےلیےعمر۱۰ رکعت نفل نمازکی جگہ ۱۰ رکعت قضائےعمری پڑھ سکتاہےیانہیں؟ 

جواب 
سوال میں پوچھے گئے مسئلے میں عمر نے جو ۱۰ رکعت نماز کی نذر مانی تھی وہ کام کے پورا ہونے پر اس کے ذمہ واجب ہوچکی ہے، یہ عمر کا اپنے عمل سے خود پر ایک غیر واجب چیز کو واجب کرنا ہوا، جبکہ قضائے عمری اُس پر من جانب اللہ فرض ہے، چنانچہ جب قضائے عمری اور (نذر) منت کے ذریعہ واجب ہونے والی نمازیں ؛ دونوں مستقل طور پر الگ الگ نمازیں ہیں تو ان میں سے ہر ایک  کو الگ الگ ادا کرنا لازم ہوگا، ایک ہی نماز میں قضائے عمری اور منذور (منت کے ذریعہ واجب ہونے والی نماز) کی نیت کرنا صحیح اور کافی نہ ہوگا۔ 

وكذااذانذران يصلى نافلة فانه يجب عليه الوفاء لأن الصلاة من جنسهاواجب وهوالصلوات الخمس (كتاب الفقه على مذاهب الاربعة  ۲/ ۱۳۱مکتبہ تھانوی)
من نسي صلاة فلیصلّ إذا ذکرہا لا کفارة لہا إلا ذلک (صحیح بخاری کتاب المواقیت)
إذا رقد أحدکم عن الصلاة أو غفل عنہا فلیصلہا إذا ذکرها فإن اللہ عز وجل یقول: أقم الصلاة لذکري (صحیح مسلم آخر کتاب المساجد)
فالأصل فیہ أن کل صلاة فاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبہا فیہ فإنہ یلزم قضاوٴہا سواء ترکہا عمدًا أو سہوًا أو بسبب نوم وسواء کانت الفوائت قلیلة أو کثیرة (البحر الرائق: ۲/ ۱۴۱)

سوال
کیافرماتےہیں مفتیان کرام! اذان کےوقت اذان دینے کے بجائے  ریکارڈ کی ہوئ اذان چالو کردے تو اذان صحیح ہوجائےگی یانہیں؟ 
جواب 
مؤذن وہی ہوسکتاہےجومسلم ،عاقل یعنی سمجھ دارہواوربولنےکی طاقت رکھتاہو،لیکن جوسمجھ بوجھ نہ رکھتاہواورنہ ہی اس میں بولنےکی قوت ہوجیسےپاگل،ایسےشخص کی اذان صحیح نہیں ہوتی ہے،لہٰذامجنوں اورغیرعاقل کی اذان صحیح نہیں ہےتوریکارڈکی ہوئ اذان بدرجئہ اولی درست نہیں ہوگی ـ

ويستحب أن يكون المؤذن صالحاعالمابالسنة واوقات الصلاة ويكره اذان صبي لايعقل ومجنون (نورالايضاح ۶۱ اذان )
وذكر في البدائع أيضاً: أن أذان الصبي الذي لايعقل لايجزي ويعاد؛ لأن ما يصدر لا عن عقل لا يعتد به، كصوت الطيور ...... أن المقصود الأصلي من الأذان في الشرع الإعلام بدخول أوقات الصلاة ثم صار من شعار الإسلام في كل بلدة أو ناحية من البلاد الواسعة على ما مر، فمن حيث الإعلام بدخول الوقت وقبول قوله لا بد من الإسلام والعقل والبلوغ والعدالة". ( فتاوی شامی ۲/ ۶۳ زکریا)(بدائع ۱/ ۶۴۶ صفات الاذان)

کوئی تبصرے نہیں