حقیقی ‏منظرکشی - Siddiqahmad.com

حقیقی ‏منظرکشی


حقیقی منظرکشی:

ازقلم: مفتی صدیق احمد بن مفتی شفیق الرحمن قاسمی ـ

حقیقی منظرکشی کہتے ہیں : کسی بھی منظرکواس طرح لکھناکہ پڑھنے والایہ محسوس کرے کہ وہ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہاہے۔

  منظرکشی کو تین قسموں میں تقسیم کرکےاس وجہ سے پیش کیاگیا،تاکہ آپ کو منظر کشی پرمکمل طور پر جہات ستہ سے عبور حاصل ہوجائے۔

  درحقیقت منظر کشی پیش کردہ تینوں قسموں کے مجموعے کا نام ہے؛ایک منظرکشی میں ان تینوں طرح کی چیزوں کا بیک وقت پایاجانا ضروری ہے ،تب ہی جاکر آپ کی منظرکشی کامیاب کہلائے گی؛ان تینوں قسموں میں سے کسی بھی قسم میں کوئ کمی واقع ہوجائے تو صحیح نقشہ ذہن میں آنامشکل ہے۔
  آپ نے اگر کہانی،ڈرامہ یاناول دیکھا ہوتو آپ کو معلوم ہوگاکہ :اس میں کتنا کامیاب اورواضح نقشہ کھینچاجاتاہےکہ پڑھنے والااپنے بارے میں خیال کرنے لگتاہے کہ کتاب میں جن کا واقعہ بیان کیاجارہاہے وہ میں ہی ہوں،پھر بڑے ہی لطف کے ساتھ اسے پڑھتاہے،اسی طرح ہماری بھی کوشش  یہی ہونی چاہیے کہ: ہم اس طرح نقشہ کھینچنے میں کامیاب ہوسکیں جس سے قاری اچھی طرح بات کو سمجھ جائے؛وضاحت اور پیش کردہ منظرکشی میں کسی بھی قسم کی تشنگی باقی نہ رہ سکے۔
  ایک کامیاب منظرکشی ہم اسی وقت کرسکیں گے جب کہ ہم نے منظر کشی کی پیش کردہ تینوں قسموں کی مکمل رعایت رکھی ہو،بصورت دیگر ہماری منظر کشی کامیاب نہیں ہوسکتی؛کیونکہ تینوں قسموں میں سے کسی بھی قسم کےایک جزء کوحذف کردیاگیا،یابیان ہی نہیں کیاگیاتو منظر کشی میں تشنگی باقی رہ جائے گی،اورعیب رہ جائے گا۔

اس کو بھی دوحصوں میں تقسیم کیاجاتاہے۔
  (۱)تدریسی،تصویری ؛(۲)خیالی،ادبی۔

  (۱)پہلی قسم میں تصویر دیکھ کراس کی وضاحت اچھے اندازمیں پیش کی جاتی ہے؛ایک ایک چیزکوواضح اندازمیں کھول کھول کربیان کیاجاتاہے۔

  (۲)دوسری قسم میں خیالی نقشہ کھینچاجاتاہے؛کہیں جاتے ہیں ،کوئی منظر دیکھتے ہیں، تحریر ی صورت میں اس منظرکی عکاسی کی جاتی ہے؛کہانی ،سفرنامہ،ڈرامہ ،ناول وغیرہ بھی اس صنف میں داخل ہے۔

  حقیقی منظرکشی کےاصول وضوابط:

  (۱)کسی بھی منظرکودیکھ کراس کی پہچان کرتے ہوئے یہ بتاناکہ یہ کس جگہ کااورکس تاریخ کامنظرہے؟نیزنظر آنے والاماحول اورموسم بھی بیان کیاجائے۔تاحدِنگاہ جوکچھ بھی نظر آئے اسے منظرکشی میں بیان کرناضروری ہے۔

  (۲)منظرسےمتعلق مواد  فراہم کرنا؛یعنی مکمل تفصیل شامل کرنا ۔نفس مضمون میں کرداروں کی کیفیات ،افعال اورصفات بھی بیان کرنالازم ہے۔ 

  (۳)منظرکےمطابق خوبصورت الفاظ لانا۔املااورقواعدکی غلطیوں کودورکرناچاہیے۔

  (۴)اردو کے قواعد کی روشنی میں اسم ِ صفت،حروف ربط، مرکب الفاظ اور تشبیہات کاعمدہ اندازمیں استعمال کرناچاہیےـ

  (۵)منظرکشی کوختم کرتے ہوئے پیش کردہ منظرکےحوالےسے اپنی رائے اوراحساسات کےساتھ ساتھ بہترین تجاویزبھی رکھناہے،جس سےاس میں مزید بہتری لائی جاسکے۔

طریقہ:

تینوں قسم کی منظرکشی کےطریقےاوراصول وضوابط کوسامنےرکھتے ہوئےـ
سب سےپہلےتاریخ دن اوجگہ کی تعیین کی جائےـ اب اس جگہ سےمتعلق جوتفصیلات ہیں اسےرف میں جمع کرلیاجائےـ کیفیات،ماحول،موسم اوروہاں پرتاحدنگاہ موجودتمام چیزوں کی تفصیلات کوقلمبندکرنےکی کوشش کریں ہرنقل وحرکت کومحفوظ کریں ـ اب ترتیب وارہرایک پرنمبرلگادیں کہ کس کوکس نمبرپربیان کرناہےـ عمدہ تعبیرات،منظرکےمطابق خوبصورت الفاظ رف میں محفوظ کرلیں ـ اب موقعہ محل کی مناسبت سےدل کش اندازمیں نقشہ کھینچنےکی کوشش کریں ـ پرکشش تشبیہات کوبھی اس میں شامل کریں ـ اب اخیرمیں پیش کردہ منظرکےمتعلق اپنےجذبات واحساسات کااظہارکرتے ہوئےبہترین تجاویز قلمبندکریں ـ 
اپنےمنظرکشی کی کامیابی کوجانچنےاورپرکھنےکےلیےآپ اصول وضوابط کی روشنی میں دیکھ سکتے ہیں؛ اس کےبعد آپ یہ محسوس کریں کہ اس میں حقیقی عکاسی ہورہی ہےیانہیں؟  قاری اسےپڑھتے ہوئےاس منظرکوبعینہ ویساہی محسوس کرپائےگایانہیں جیساہم نےمحسوس کیا؟ اگریہ سب چیزیں کامیاب ہیں تومنظرکشی بھی کامیاب سمجھی جائےگی؛  ورنہ اس کی کمی اورکوتاہی کودورکرنےکی سخت ضرورت ہےـ
اس طرح منظرکشی کاسفراختتام کوپہونچےگاـ 

عملی مشق:

اس کی عملی مشق کےدوطریقےہیں؛ پہلاطریقہ یہ ہےکہ ایک ایسی تصویرکولےکراس کی عکاسی کرنےکی کوشش کی جائے جس میں مختلف مناظر،نقل وحرکت،بہت سی چیزیں موجودہوں  اوریہ دیکھاجائےکہ تحریری نقشہ اچھے طورپرہم کھینچ پارہے ہیں یانہیں؟ اس طرح دوتین مرتبہ مشق کرنےسےمنظرکشی آسانی سےسمجھ میں آجائےگی ـ

 اس کےبعدمزیداس میں پختگی کےلیےکسی بھی منظرکی ویڈیوچلاکراس کانقشہ کھینچاجائےیاپھرکہیں گھومنےگئے ہوں اسےیادکرکے،بہترین اندازمیں قوت تخیل یعنی سوچ وفکراورتعبیرات کی مددسے اس کانقشہ تحریری شکل میں کھینچنےکی کوشش کریں ـ
اب اپنی تحریرکوکسی ماہراستاذسےچیک کرائیں،اوران کی ہدایات پرعمل کریں ـ

1 تبصرہ: